عشق کی عظیم مثال: سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ کی داستان
دلوں کو چھو لینے والا یہ واقعہ ضرور ملاحظہ فرمائیں!
مکہ معظمہ میں اسلام کا پہلا تعلیمی اور تبلیغی مرکز، کوہِ صفا کے دامن میں واقع دارِ ارقم تھا۔ یہاں، نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھیوں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس فرما رہے تھے۔ جب مسلمانوں کی تعداد 39 تک پہنچی، تو سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ نے کفار کے سامنے دعوتِ اسلام اعلانیہ پیش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اگرچہ نبی ﷺ نے منع فرمایا، لیکن آپ نے اصرار کیا، بالآخر آپ کو اجازت ملی۔
"و قام أبوبكر في الناس خطيباً، و رسول اللّٰهﷺ جالس..."
سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ نے لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر خطبہ دینا شروع کیا۔ آپ ہی پہلے خطیب تھے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوگوں کو بلانے لگے۔ نتیجتاً، کفار نے آپ پر حملہ کر دیا اور آپ کو شدید زد و کوب کیا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ آپ کی حالت بگڑ گئی ہے، تو آپ کو چھوڑ دیا گیا۔ آپ کے خاندان والوں نے آپ کو اٹھا کر گھر لے جانے کا فیصلہ کیا۔ آپ کے والد ابو قحافہ اور والدہ آپ کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ جب آپ ہوش میں آئے تو آپ کی زبان پر پہلا جملہ تھا:
"ما فعل رسول اللّٰہﷺ؟"
آپ کی فکر نے سب کو حیران کر دیا۔ آپ کی والدہ نے آپ کو کھانے پینے کے لئے اصرار کیا، مگر آپ کا جواب تھا کہ جب تک آپ رسول ﷺ کی خبر نہیں لے لیتے، آپ کچھ نہیں کھائیں گے۔ آپ کی والدہ نے کہا:
"واللّٰه، ما لي علم بصاحبك!"
آپ نے والدہ سے کہا کہ حضرت اُمّ جمیل رضی اللّٰہ عنہا سے حضور ﷺ کے بارے میں پوچھ کر آئیں۔ جب انہوں نے آپ کی حالت دیکھی تو کہا:
"إني لأرجو أن ينتقم اللّٰه لك منهم."
لیکن آپ کا سوال پھر بھی وہی تھا:
"فما فعل برسول اللّٰه ﷺ؟"
جب انہیں بتایا گیا کہ رسول ﷺ خیریت سے ہیں، تو آپ نے کہا:
"فإن اللّٰه عليّ أن لا أذوق طعاما ولا أشرب شرابا أو أتي رسول اللّٰهﷺ."
آپ کو دارِ ارقم پہنچایا گیا۔ جب نبی ﷺ نے آپ کو دیکھا تو آپ کے لیے بے حد محبت کا اظہار کیا۔ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا:
"بأبي و أمي يا رسول اللّٰهﷺ، ليس بي بأس إلا ما نال الفاسق من وجهي."
آپ کی والہانہ محبت کی مثالیں بے شمار ہیں۔ آپ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا کہ ان کے والد سارا دن نبی ﷺ کی خدمت میں رہتے، اور رات کو ان کی جدائی کا احساس انہیں بے چین کر دیتا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عشق اور وفا کا اصل معیار کیا ہوتا ہے۔ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ کی یہ داستان نہ صرف ایمان کا اظہار ہے، بلکہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ عشق کی راہ میں سب سے بڑی قربانی کیا ہوتی ہے۔
حوالہ جات:
*(بخاری، ترمذی، نسائی، مسندِ احمد)*

Comments
Post a Comment